Home Students' Union جب طلبہ یونین ہوتی تھی….! سیدامجد حسین بخاری

جب طلبہ یونین ہوتی تھی….! سیدامجد حسین بخاری

40
0
SHARE

طلبہ سیاست کا طائرانہ جائزہ اس امر پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ طلبہ ایک ایسی قوت ہیں جنہیں اگر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا جائے تو وہ کوئی بھی انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ انقلاباتِ عالم خصوصاَ قیام پاکستان میں طلبہ نے اپنی محنت شاقہ، والہانہ لگن اور جرات سے جو فیصلہ کن کردار ادا کیا وہ تاریخِ پاکستان ہی نہیں بلکہ تاریخِ عالم میں طلبہ سیاست کے لئے مشعلِ راہ کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔ طلبہ تنظیموں اور طلبہ یونینز کی سوچ کے حوالے سے وطن عزیز کے ماہرین سماجیات، نفسیات ،سیاسیات، مذہب اور تاریخ کا رویہ انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ بدقسمتی سے طلبہ کے سیاسی، اجتماعی، معاشی، اور تحریکی رجحانات کا کبھی معروضی حوالے سے تجزیہ نہیں کیا۔میری نظر میں طلبہ تنظیموں کی پوری تاریخ کو نظر انداز کرتے ہوئے محض سیاسی مداخلت اور تشدد کے کچھ واقعات کو بنیاد بنا کر اس پر پابندی کی حمایت مریضانہ سوچ کی علامت ہے۔

پاکستان کے تعلیمی نظام اور طلبہ تاریخ میں ماہِ فروری کو وہی حیثیت اور مقام حاصل ہے جو تاریخِ پاکستان میں16دسمبر کو ۔ فروری1984ءمیں یکے بعد دیگرے تمام صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں طلبہ کے جمہوری حقوق پر پابندی عائدکر دی گئی ۔ مشرقی پاکستان کو دولخت کرنے کی کامیاب سازش کے بعد پسِ پردہ اُنہی عناصر نے ایک بار پھر جرنیلی اقتدار کے ہاتھوں طلبہ کی جمہوری قوت کو دبانے کے لئے مارشل لاءکے ضابطے MLR 1371 کو رو بہ عمل لایا۔اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر تعلیمی اداروں نے طلبہ میں سیاسی ذہن پیدا نہیں کرنا تو یہ سیاسی ذہن کہاں سے پیدا ہو گا؟ طلبہ آج یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ طلبہ یونین پر پابندی کے بعد کیا ہم نے معیارِ تعلیم کا مقررہ ہدف حاصل کر لیا ہے ؟ کیا ہمارے تعلیمی اداروں میں ہونے والے لڑائی جھگڑوں، ہلاکتوں میں کوئی کمی آئی ہے ؟ کیا سیاسی جماعتوں نے تعلیمی اداروں میں مداخلت ترک کر دی ہے ؟ اگر ان سب کا جواب نفی میں ہے تو طلبہ یونین پر پابندی بلاجواز ہی نہیں بلکہ اسے برقرار رکھ کر حکمران قومی مفادات کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں اور جمہوری رویوں سے بھی روگردانی کر رہے ہیں۔

آخر طلبہ یونین نے 1984ءسے قبل 37سالہ تاریخ میں تعلیمی اداروں کے اندر کن رجحانات کو پروان چڑھایا، کیا سرگرمیاں متعارف کرائیں ،طلبہ برادی پر کیا اثرات مرتب کئے اور تعلیم کے حوالے سے کیا مطالبات حکمرانوں کے سامنے رکھے؟ اس کا جائزہ ازحد ضروری ہے ۔ انہیں یا تو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہے یا اُن سے سمجھے بوجھے نظریں چرائی جا رہی ہیں ۔ جب طلبہ یونین پر پابندی عائد کی گئی تو الزام لگایا گیا تھا کہ سیاسی جماعتیں طلبہ کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہیں،تعلیمی ماحول خراب اور طلبہ میں تشدد کا کلچر پروان چڑھ چکا ہے۔ میں کسی دلیل کا سہارا لئے بغیر اُسی دور حکومت میں وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر افضل کی زیرِ سربراہی وائس چانسلرز کمیٹی کی رپورٹ پیش کر رہا ہوں جو کہ طلبہ یونین پر پابندی کے جائزہ لینے کے لئے بنائی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے 1985ءمیں 14ماہ کے بعد رپورٹ کا اجراءکیا جس میں کہا گیا تھا کہ ”جن مقاصد کی خاطر طلبہ یونین پر پابندی عائد کی گئی تھی وہ حاصل ہونے کی بجائے الٹا نقصان ہو رہا ہے ۔تعلیمی اداروں میں گھٹن کا ماحول ہے اور غنڈہ گردی،تشدد اور جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔تعلیمی اداروں میں طلبہ قیادت کے بجائے قبضہ مافیا قابض ہو چکا ہے “۔صرف یہی نہیں بلکہ 10مارچ1993ءکو سپریم کورٹ کے فل بینچ نے جسٹس نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں 40 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا کہ” ہم یونینوں کی سرگرمیوں پر اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ یہ یونین تعلیمی ضروریات کے عین مطابق اور کیمپس سے براہ راست متعلقہ ہیں، لہٰذا اِن کو کام کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونین کی سرگرمی اس وضاحت کے ساتھ بحال کی جا رہی ہے کہ اسے نظریاتی راستے سے نہیں ہٹایا جائے گا اور طلبہ اپنی تعلیم و تربیت اس راستے پر کر سکیں گے۔ان کے والدین، اساتذہ اور اداروں کی طرف سے انہیں معاونت اور راہنمائی حاصل ہو گی“۔

یونین کے حق میں ان واضح دلائل کے باوجود میں طلبہ یونین کے ان چند اقدامات کو ضرور سامنے لاؤں گا جن کی جھلک آج بھی تعلیمی اداروں میں دکھائی دیتی ہے اور یونین کے تابندہ دور کی یاد دلاتی ہے ۔طلبہ یونین نے جو شعبے اور ادارے متعارف کرائے ان میں ادبی کونسل، ڈیبیٹنگ سوسائٹی، سپورٹس کلب، اسٹوڈنٹس ایڈ کلب، اسٹوڈنٹس مشاورتی بورڈ، پرائس اینڈ پیس کنٹرول کمیٹی اور ڈسپلن کمیٹی وغیر شامل ہیں۔ ان کو قائم کرنے کا مقصد کام کو منظم انداز میں سرانجام دینا تھا۔ آج بھی چند تعلیمی اداروں میں ان میں سے کچھ ادارے قائم ہیں لیکن چونکہ یہ ادارے یونیورسٹی انتظامیہ کے تحت ہیں ۔ ان کے لئے نہ تو باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور نہ صحیح انداز سے ذمہ داران کا تقرر کیا جاتا ہے، نتیجتاَ یہ بے قاعدگی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔جبکہ طلبہ یونین ان اداروں کے لئے باقاعدہ ذمہ داران کا تقررکرتی تھی اوراس مقصد کے لئے کمیٹیاں بنائی جاتی تھیں جو خالصتاَ اسی ادارے کے لئے کام کرتیں اور یوں کام میں باقاعدگی ہوتی۔ تعلیمی اداروں میں کتاب میلے کی روایت، ہفتہ طلبہ، ادبی سرگرمیاں، ٹرانسپورٹ کی فراہمی، میڈیکل سہولیات کی فراہمی، فرسٹ ائیر فولنگ کا خاتمہ، فوجی تربیت برائے طلبہ کا اجراء، بلڈ ڈونرز سوسائٹی کا قیام، بک بینک اور مساجد کا قیام طلبہ یونین ہی کی مرہونِ منت ہے۔

طلبہ یونینز کی تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں1962ءمیں ایوب خان نے ”تین سالہ ڈگری پروگرام“ کامتنازعہ آرڈیننس واپس لیا۔ کراچی کے انٹر کالجز کو ڈگری کالجز کا درجہ دلوایاگیا۔ حیدرآباد میں ڈگری سطح پر سائنس کالجز کا قیام کروایا اور بعد میں پنڈی میں گورڈن کالج میں آرٹس کلاسز کا اجراء کرایا گیا ۔1966ءمیں پہلی مرتبہ پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر سید عارف نے خواتین یونیورسٹی کے قیام کے مطالبہ کیا جو بعد ازاں پورا ہوا۔ 1968ءمیں میڈیکل کالجز سے فارغ ہونے والے طلبہ کی دو سالہ جبری ملازمت کے خلاف صدائے احتجاج بار آور ثابت ہوئی۔ 1973ء میں طلبہ یونینز کے مطالبے پر حکومت نے طلبہ کے لئے بسوں کا کرایہ نصف کرنے کا اعلان کیا ۔1973ءمیں پنجاب یونیورسٹی نے یونین کے مطالبے پر اردو میں ایل ۔ ایل۔ بی۔ شروع کی ۔1975ءمیں پنجاب یونیورسٹی کے اکثر شعبہ جات میں سالانہ سیشن کی بجائے سمسٹر سسٹم کا آغاز ہوا ۔ اس سلسلے میں فضا کی تیاری سے عملی احکامات کی منظوری تک تمام مراحل طلبہ یونین کی مرہونِ منت ہیں ۔اکتوبر1977ءمیں پنجاب یونیورسٹی یونین کے صدر لیاقت بلوچ نے صدرِ پاکستان ضیاءالحق کو تعلیمی میمورنڈم پیش کیا جس کے بعد حکومت نے دس نکاتی پالیسی کا اعلان کیا جس میں عربی زبان کو چھٹی سے لازمی قرار دیا گیا۔ کراچی یونیورسٹی میں طلبہ یونین نے 105بسوں پر مشتمل ٹرانسپورٹ کا وسیع ترین نظام بحسن و خوبی چلا کر دکھایا ۔اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو ڈگری تک لازمی مضامین بنایا گیا اور پاکستان میں ایک اسلامی یونیورسٹی کے قیام کا عزم کیا گیا ۔اس کے علاوہ اور ایسے ان گنت عنوانات ہیں جو اگر بیان کئے جائیں تو ایک طویل کتاب مرتب کی جا سکتی ہے۔

موجودہ حکومت جب برسراقتدار آئی تھی تو بجا طور پر قوم کو امید تھی کہ ملک میں جمہوری کلچر پھلے پھولے گا اور سابقہ آمرانہ دور میں انسانی حقوق اور بنیادی شہری آزادیوں کا جس طرح گلا گھونپا گیا تھا انہیں ختم کر کے برداشت اور تحمل کا کلچر فروغ پائے گا۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ میں اپنے انتخاب کے بعد ابتدائی تقریر میں جو اعلانات کئے وہ پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی تھے جن میں انہوں نے جہاں دیگر کئی اہم اقدامات کا اعلان کیا وہیں ان میں طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان بھی شامل تھا۔ پوری قوم نے بالعموم اور طلبہ برادری نے بالخصوص اس اقدام کی بھرپورتحسین و تائید کی اور اس بارے میں حکومت کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دھائی کروائی ۔بدقسمتی سے حکومت کئی دیگر واقعات کی طرح طلبہ سے کئے گئے اس واحد وعدے کو عملی شکل نہیں دے سکی اور دو سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی طلبہ یونین نہ تو بحال کی گئی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی پیش رفت دکھائی دیتی ہے۔دوسری جانب تمام طلبہ تنظیمیں مبارکباد کی مستحق ہیں جو تعلیمی اداروں میں تشدد کے کلچر کو جڑ سے ختم کرنے اور باہمی رواداری اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے گزشتہ کئی سالوں سے منظم انداز میں تعلیمی معیار کی بہتری، نظام تعلیم کی اصلاح اور رواداری و برداشت کے کلچر کے فروغ کے لئے سرگرم ہےں ۔ حکمران اس بات کو کیوں سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پابندیاں کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوا کرتیں بلکہ اس طرزِ عمل سے اور زیادہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔ماضی میں طلبہ تنظیموں نے قومی تحریکوں میں اپنامثبت رول ادا کیا ہے ۔دنیا بھر میں تعلیمی اداروں کے اندر طلبہ کو یونین سازی کا اختیار ہے۔ بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھارت ہی نہیں امریکہ، برطانیہ اور روس کی بھی اعلیٰ پائے کی یونیورسٹیز میں طلبہ یونینز کام کر رہی ہیں ۔اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں ریڑھی والے سے لے کر وکلاءاور اساتذہ تک سب کی یونینز ہیں لیکن ملک و قوم کا سب سے باشعور طبقہ اس حق سے محروم ہے ۔ آج جبکہ 18سال کے نوجوان کو قومی انتخابات میں ووٹ کا حق حاصل ہے تو تعلیمی ادارے میں اُس سے ووٹ کا حق چھیننا کہاں کی عقلمندی ہے۔

یونین سازی طلبہ کا بنیادی، جمہوری، اخلاقی اور قانونی حق ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں فی الفور یونین بحال کی جائے ۔اس مقصد کے لئے حکومتی سطح پر ایک ضابطہ اخلاق مرتب کیا جا سکتا ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی ممکن ہے ۔تاکہ ایک عظیم تر اسلامی جمہوری مملکت کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here