Home Pakistan عزم عالیشان۔ ہمارا پاکستان – سیدامجد حسین بخاری

عزم عالیشان۔ ہمارا پاکستان – سیدامجد حسین بخاری

30
0
SHARE

پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی خلفشار کا شکار ہے، اس کی بنیادوں کو ایک طرف جہاں بیرونی طاقتیں کھوکھلا کر رہی ہیں وہیں دوسری جانب اندرونی طور پر مختلف بہانوں سے اس کی جڑوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے، ایک جانب دہشت گردی کا عفریت اسے نگل جا رہا ہے وہیں دوسری جانب اس کی نظریاتی اساس کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے جہاں عام آدمی اس سے متاثر ہو رہا ہے وہیں قوم کا سب سے مفید طبقہ اور معاشرے کا اہم جزو نوجوان اس سے بری طرح متاثر ہیں۔نوجوانوں اس قوم کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، یہی نوجوان کل کو اس ملک کا باگ دوڑ سنبھالنے کے لئے آگے آئیں گے، حالیہ رپورٹس کے مطابق اس وقت 62لاکھ نوجوان نشے کی لت میں مبتلا ہیں جو کہ اپنی ذات کو برباد کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی تباہی کا سبب بھی بن رہے ہیں۔3کروڑ سے زائد نوجوان تعلیم سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے ملک کا مستقبل خطرے میں ہے ، ملک میں اس وقت ہر شعبہ میں عدم استحکام نظر آرہا ہے ۔عوام مایوسی کی وجہ سے پریشان ہے ان حالات میں قوم کی نظریں نوجوانوں اور طلبہ پر ہے لیکن پاکستانی نوجوان کو صحیح سمت دیکھانے کے لئے کسی کے پاس کوئی ٹھوس اور واضح لائحہ عمل نہیں ہے ۔ان حالات میں جمعیت نے اپنی گذشتہ سالوں سے جاری مہمات کو مزید تیز تر کرتے ہوئے بڑی تعداد میں طلبہ تک پہنچنے اور ملکی ترقی کے لئے براہ راست کردار ادا کرنے کے لئے عزم ہمارا پاکستان کے سلوگن کے تحت مہم چلانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ تعمیری مہم بھی تھی ۔جس میں طلبہ کو تعلیمی اداروں اور گھر میں تعمیر پاکستان کے لئے مختلف سرگرمیاں دی گئیں۔باکردار طالب علم اور با عمل طالب علم کے کلچر کو تعلیمی اداروں میں پروان چڑھایا جا ئے گا جبکہ والدین سے احسان اور معاشرے کے احترام کے کلچر کو گھروں اور بازاروں میں عام کرنے کے حوالے سے خصوصی پروگرامز منعقد کئے گئے۔عام طلبہ اورنوجوانوں کی بڑی تعداد کو سرگرمیوں میں شرکت او رملکی ترقی کے لیے عملی کاموں میں حصہ لینے کے لیے آمادہ کرنے کے لئے عزم رضا کار فارمز پر کروائے گئے۔پاکستان کی نظریاتی اساس کو اجاگر کیا گیا۔اپنی خصوصی سرگرمیوں کے ذریعے جمعیت نے ۰۲ لاکھ طلبہ سے رابطہ کیا۔ ملک اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جس کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہی کی جانب گامزن ہے ،مہنگائی اور بے روزگاری کا براہ راست اثر نئی نسل پر مہنگی تعلیم کی صورت میں ہو رہا ہے ۔ طلبہ کے لئے اعلی تعلیم کے دروازے سرکاری جامعات میں بھی زیادہ فیس اور مہنگی رہائش کی وجہ سے روز بروز بند ہوتے جا رہے ہیں ایسے حالات میں امن کے قیام اورمحبت کے پیغام کے کلچر کو سیاسی حلقوں اور محکموں میں عام کرتے ہوئے غریب کو قومی ترقی کے دھارے میں لاتے ہوئے تعلیم کو عام کرنے کا مطالبہ حکومت کو پیش کیا گیا ۔ ۸۱ویں ترمیم میں تعلیم کو امور کو صوبائی حکومتوں کے حوالے کرنے سے ملک میں نصاب تعلیم کے نئے طبقات بن گئے ہیں۔ہر سال نظریاتی امور سے متعلق اسباق کو تبدیل کر کے بے مقصد اسباق کو کتابوں کی زینت بنایا جا رہا ہے۔ طبقاتی نظام تعلیم نے قوم میں اتحاد و یگانگت کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان ملک بھر میں” یکساں نصاب تعلیم” کی مہم بھی بھرپور انداز میں چلائی۔ اس حوالے سے صوبائی ہیڈکواٹرز میں خصوصی تعلیمی سیمنارز کرائے گئے جن میں ماہرین تعلیم، بیوروکریٹس اور ممبران قومی اسمبلی و سینٹ کو شریک کرایا گیا جبکہ اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب نے یکساں نظام تعلیم کے لئے مال روڈ لاہور پر احتجاجی دھرنا دیا۔ انگریزی زبان کو مکمل ذریعہ تعلیم بنانے سے رٹہ کلچر کو فروغ مل رہا ہے جبکہ اعلی تعلیم میں بیرونی دنیا کے پرانے اسباق پڑھائے جا رہے ہیں۔ تعلیم ہی ملک کے بہتر مستقبل کی علامت ہے لیکن بیرونی مداخلت اب سیاسی و عسکری امور سے آگے نکل کر تعلیمی اداروں میں روشن خیالی کے نام نہاد تصور اور وظائف دینے کی صورت میں بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ مغرب کی آزاد تہذیب اس ملک کا مقدر نہیں بن سکتی ۔ملک اس وقت دو انتہاﺅں کا شکا ر ہے جس میں ایک جانب مذہبی انتہا پسندی ہے تو دوسری جانب آزادی خیالی کی انتہا پسندی ہے اور انتہا پسندی میں غریب عوام کانقصان ہو رہا ہے ۔تعلیمی ادارے امن اور ترقی کی علامت ہوتے ہیں مگر نئی نسل کے پاس کوئی بامقصد لائحہ عمل نہ ہونے کی وجہ سے براہ راست ملکی ترقی میں کردار کی ادائیگی کا کوئی منصوبہ نہیں ۔ملک کے ایلیٹ کلاس تعلیمی ادارے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بیرون ملک خدمات دینے والے پاکستانی تیار کر رہے ہیں جس کا ملکی معیشت کو کسی بھی طرح کا فائدہ نہیں ہو رہا۔اسلام اور اسلامی نظام ہی عالمی امن و سلامتی کا ضامن ہے ،اس پیغام کے ساتھ لیکچرز،کانفرنسز،سیمینارزاور ڈائیلاگ بھی اس مہم کا حصہ رہے۔یہ مہم ایک جانب قوم کی نوجوانوں کو امید اور یک جہتی کا پیغام دیتے ہوئے پاکستان کی بہتری کے لئے اقدامات کے لئے انہیں بیدار ومتحد کر نے میں ممد و معاون ثابت ہوئی وہیں دوسری جانب اسلامی جمعیت طلبہ نے ایوان اقتدار کے باسیوں تک طلبہ کے مطالبات پہنچانے کے لئے جدوجہد کی۔اسی مہم کے دوران جہاں ملک کا سب سے فعال طبقہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے آگے بڑھے توانہی نوجوانوں کی آواز اسلامی جمعیت طلبہ کا نعرہ ” عزم ہمارا پاکستان “ بنا۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے اس مہم کے دوران بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں طلبہ کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ٹیلنٹ ایوارڈ شوز کرائے، یہ ٹیلنٹ ایوارڈ شوز ان دنوں میں کرائے گئے جب بم دھماکوں کی وجہ سے بلوچستان خوف ودہشت کی علامت بنا ہوا تھا۔ اسی طرح محرومیوں کے شکار جنوبی پنجاب میں اسلامی جمعیت طلبہ نے مختلف ناموں سے ٹیلنٹ ایجوکیشنل ایکسپوز منعقد کرائیں جن میں کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ وطالبات کے علاوہ سکولز کے طلبہ اور والدین نے بھی بھرپور شرکت کی۔ اسی طرح سندھ میں جہاں کلچر کے نام پر تہذیب وتمدن کا مذاق اڑایا جاتا رہا ہے۔ جہاں کا باسی وڈیروں اور جاگیرداروں کے مظالم کا شکار ہے۔ جہاں کے عوام کی زبانوں پر مصلحتوں کے تالے لگے ہوئے ہیں۔اسی سندھ کے چھے بڑے شہروں میں جمعیت نے مہم کے دوران دو سے تین روز ایجوکیشنل ایکسپوز منعقد کرائیں۔اسی طرح خیبر، کشمیر، پنجاب اور گلگت بلتستان میں اسلامی جمعیت طلبہ نے بڑے پیمانے پر تعلیمی سرگرمیاں منعقد کرکے قوم کے نوجوانوں کو ایک نئی راہ دکھائی۔ ایک روشن منزل کی جانب ان کی رہنمائی کا فریضہ ادا کیا۔اسی طرح جمعیت نے نئے آنے والے طلبہ وطالبات کو تعلیمی اداروں میں خوش آمدید کہنے کے لئے خصوصی تقاریب منعقد کیں۔ جب کہ اس مہم کے دوران جمعیت نے قومی اور بین الاقوامی موٹیویشنل سپیکرز کے ذریعے طلبہ وطالبات کی کیرئر کونسلنگ بھی کی۔جب قومی اسمبلی اور سیاست کے میدان میں کرپشن کرپشن کی بازگزشت سنائی دے رہی تھی اسی وقت اسلامی جمعیت طلبہ نے طلبہ کو مایوسی کی دلدل سے نکالنے کے لئے ”عزم ہمارا پاکستان“ کا نعرہ دیا اور اسی نعرے کی بنیاد پر طلبہ وطالبات کو بہتر ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی امید دی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here