Home Education میرٹ سے مذاق !- عابد تہامی

میرٹ سے مذاق !- عابد تہامی

55
0
SHARE

بدقسمتی کی بات ہے کہ تعلیمی نظام میں بہتری لانے کیلئے کبھی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں بلکہ سارے نئے نئے تجربات اسی میدان میں کئے جاتے ہیں، پسند ناپسند اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کیلئے بھی یہی شعبہ رہ گیا ہے، نہ تو مستقبل کی ضروریات پیش نظر ہیں اور نہ ہی مارکیٹ کی طلب کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کی جاتی ہے بلکہ جس کے پاس اختیار آتا ہے وہ ایک نیا تجربہ کر ڈالتا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اب صوبے تعلیمی لحاظ سے خودمختار ہو گئے ہیں تو تعلیم میں بہتری کیلئے بھی کام ہو گا۔ مگر ایک طرف تعلیمی معیار پستی کی طرف گامزن ہے تو دوسری طرف وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی کی وجہ سے ایک بداعتمادی کی فضا پیدا ہو چکی ہے، اس وقت صرف پنجاب کی گیارہ یونیورسٹیاں ایسی ہیں جو پچھلے ڈیڑھ برس سے مستقل وائس چانسلرز سے محروم ہیں۔ وائس چانسلر کی تقرری کے حوالے سے اختیارات کا تنازع اتنا بڑھ گیا تو ہائیکورٹ کو مداخلت کر کے یہ فیصلہ دینا پڑا کہ صوبے کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرری کا اختیار اب صوبائی حکومتوں کے پاس ہے اگر وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کو صوبوں کی یوینورسٹیوں میں مداخلت کرنے کی ضرورت ہے تو یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لانا ہوگا اور اپنی تمام تر پالیسیوں کے حوالے سے حتمی منظوری اس فورم سے حاصل کرنا ہوگی۔
اس وقت پنجاب میں بنائی جانیوالی چار نئی یونیورسٹیاں جن میں ہوم اکنامکس یونیورسٹی لاہور، یونیورسٹی آف ساہیوال، یونیورسٹی آف اوکاڑہ اور یونیورسٹی آف جھنگ میں وائس چانسلرز کی تقرری ہونی ہے جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور، وومن یونیورسٹی ملتان اور غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں وی سی کی سیٹیں خالی ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب یونیورسٹی، لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سرگودھا اور نواز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی ملتان میں وائس چانسلر کی تقرری ہونی تھی۔ ہر یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تقرری کیلئے سرچ کمیٹی ایک معیار کے مطابق امیدواروں کی شارٹ لسٹنگ کرتی ہے۔ لیکن یہاں بھی میرٹ کی بجائے پسند، ناپسند کو سامنے رکھا گیا۔ مثال کے طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے رولز کے مطابق کوئی پروفیسر ٹینور ٹریک پر ہے تو وہ کسی بھی ایڈمنسٹریٹو پوسٹ کیلئے اہل نہیں مگر لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی کیلئے ایک خاتون کو شارٹ لسٹ کیا گیا اور عبوری وائس چانسلر بھی لگا دیا گیا جبکہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کیلئے تحقیقاتی کمیٹی نے مطلوبہ معیار کی دھجیاں بکھیرنے کی ایک نئی مثال قائم کر دی۔ تین امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا تو ان میں سے ہائر ایجوکیشن نے دسمبر 2016ء میں عبوری وائس چانسلر بھی لگا دیا۔
وائس چانسلر کیلئے 12سالہ تدریسی تجربہ ہونا ضروری ہے اور وہ یونیورسٹی ایچ ای سی سے منظو شدہ ہو مگر موصوف پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس میں 2006ء میں بننے والے ڈگری ایوارڈنگ ادارے میں پالیسی پلاننگ سیل میں ایڈمنسٹریشن کی سیٹ پر کام کر رہے تھے اور اگر انہوں نے 2006ء کے بعد بھی مسلسل پڑھانا شروع کیا تو 4نومبر 2015ء تک ان کے 12سالہ تدریسی سال مکمل نہیں ہوتے۔ انہوں نے اپنے سی وی میں جن 43ریسرچ پیپرز کی تفصیل دی ہے اُن میں سے 13کانفرنس پیپرز ہیں، 6رپورٹس ہیں جو کوئی ریسرچ پیپر نہیں ہوتے، تین ورکنگ پیپرز ہیں جو کسی بھی میٹنگ کا ایجنڈا ہو سکتے ہیں، چار ورکنگ ڈسکشن اور بک چپٹر سے ملتی جلتی چیزیں ہیں، اس طرح 21ریسرچ پیپرز وہ ہیں جو پاکستان ڈویلپمنٹ ریویو میں اس وقت شائع ہوئے جب وہ ایچ اسی سی سے منظور شدہ ہی نہ تھا جبکہ اس امیدوار کے انٹر میں 51فیصد نمبر ہیں اور بی اے میں سات سو میں سے 315نمبر ہیں، ان کی پانچ رعایتی نمبر کے بعد سیکنڈ ڈویژن بنتی ہے جو مطلوبہ معیار سے کم ہے مگر سرچ کمیٹی نے نہ صرف مطلوبہ معیار کو نظر انداز کر کے شارٹ لسٹنگ میں نام دیا بلکہ دسمبر 2016ء کو عبوری وائس چانسلر مقرر کر دیا اور اب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے مستقل وائس چانسلر کی تقرری کیلئے وزیراعلیٰ کو ان کی سمری بھی بھجوا دی ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن ایک ریگولیٹری اور ایڈوائزری باڈی ہے مگر اس نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ اگر تو صوبائی ہائر کمیشن کو اس طرح کا کردار ادا کرنا ہے تو پھر تعلیم کے حوالے سے 18ویں ترمیم کی شقوں کو واپس لینے کی ضرورت ہے اور اگر میرٹ سے ہٹ کر یہ تقرری کی جاتی ہے تو پھر ہمیں تعلیمی نظام میں بہتری کی کبھی امید نہیں رکھنی چاہئے۔ اس لئے وزیراعلیٰ کو فوری طور پرصورتحال کا جائزہ لینا چاہئے۔
بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی بلکہ اس وقت صوبہ پنجاب میں تو تعلیم کو چوں چوں کا مربہ بنا دیا گیا ہے۔ کچھ عرصے پہلے صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن نے یہ بیان جاری کیا کہ صوبہ بھر میں بی اے اور ایم اے، ایم ایس سی کے دو سالہ پروگرام آئندہ سال بند کر کے اس کی جگہ چار سالہ بی ایس پروگرام چلایا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئندہ کی پلاننگ کے بغیر یہ فیصلہ کر دیا گیا حالانکہ 2010ء میں 26کالجوں میں شروع ہونیوالا چار سالہ بی ایس پروگرام مناسب سہولتیں اور متعلقہ ایکسپرٹ ٹیچرز نہ ہونے کیوجہ سے مصنوعی آکسیجن پر ہے لیکن اب ایک نیا بیان انہوں نے داغ دیا ہے کہ پنجاب کے 712کالجوں میں کمیونٹی ادارے بنائے جارہے ہیں، ابتدا میں پنجاب بھر کے 9ڈویژنوں میں سے ہر ایک میں ایک بوائز اور ایک گرلز کالج میں کمیونٹی کالج بنایا جائیگا۔ اس سے پہلے کہ اب تعلیم کو پھر ایک نئے تجربے کی بھینٹ چڑھایا جائے، ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام کی خرابیوں اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق منصوبہ بندی کرنے کیلئے پنجاب بھر میں تعلیمی ضروریات کے حوالے سے سروے کروائے جائیں، ریسرچ کی جائے، یہ ڈسکشن، اساتذہ، والدین، طلبہ اور ماہرین تعلیم کیلئے اوپن کی جائے۔ پاکستان میں بننے والی مختلف تعلیمی پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی تعلیمی پالیسیوں کے تقابلی جائزے کے بعد ایک نئی تعلیمی پالیسی بنائی جائے اور اس پالیسی کی روشنی میں آئندہ دس سال کیلئے تعلیمی اہداف طے کر کے پھر موجودہ تعلیمی نظام میں تبدیلی لائی جائے۔ یہ ساری منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس چیز کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ اب تعلیم صرف پبلک سیکٹر کا مسئلہ نہیں بلکہ نجی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور ان نجی کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بھی ایک جیسے ضابطے میں لانے کی ضرورت ہے، یہاں پڑھائے جانیوالے سلیبس اور پبلک تعلیمی اداروں کے سلیبس میں ہم آہنگی ہونی چاہئے یہ سارے سلیبس کسی کامیاب تعلیمی ماڈل کے تحت ہونے چاہئیں جو مستقبل کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوں۔ اگر ان خطوط کی روشنی میں بہتری لانے کی کوشش نہیں کی جاتی تو پھر تعلیمی زوال نوشتۂ دیوار ہے، جو دراصل قوم کا زوال ہے۔ آخر میں حکمرانوں کو قوموں کو بنانے میں تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے ایک واقعہ سنانا چاہتا ہوں کہ دوسری جنگ عظیم میں جب جاپان کو شکست ہوئی تو امریکی جنرل میکارتھر نے بادشاہ ہیروہیٹو سے پوچھا کہ آپ کی کوئی خواہش، جس پر جاپان کے بادشاہ نے کہا کہ ہمارے تعلیمی نظام کو نہ چھیڑا جائے۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ چند سالوں میں جاپان ترقی یافتہ ممالک میں صف اول پر آگیا اور امریکہ بھی اس سے مدد لینے والوں میں شامل تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here