Home Students' Union ‘پاکستان کی جامعات میں طلبہ یونین بحال ہونی چاہییں’

‘پاکستان کی جامعات میں طلبہ یونین بحال ہونی چاہییں’

34
0
SHARE

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے منگل کے روز اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ملک کی یونیورسٹیوں میں طلبہ تنظیموں کو پوری طرح سے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

جامعات کی یہ تنظیمیں غریب اور متوسط طبقے کی سیاسی نرسریاں سمجھی جاتی تھیں جہاں سے ملک کو سیاسی قیادت ملی۔ لیکن جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں طلبہ اور مزدور یونینوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹر افراسیاب خٹک بھی طلبہ یونین سے سینیٹ تک پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل ایوب خان نے طلبہ یونین پر پابندی لگائی تھی اور جب مارشل لا ختم ہوا اور آئین نافذ ہوا تو یہ پابندی اٹھائی گئی۔

اس وقت وہ پشاور یونیورسٹی میں تھے اور پہلی بار یونین کے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ بقول خٹک کے ان دنوں بہت مثبت سرگرمیاں ہوتی تھیں جنرل ضیاالحق کے آنے تک یونیورسٹیاں پر امن تھیں اور وہاں بحث مباحثے ہوتے تھے۔

پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے بعد 1988 میں بےنظیر بھٹو نے طلبہ یونین سے پابندی ہٹانے کا اعلان کیا، لیکن تین سال کے اندر یونین سازی کو اس بنیاد پر عدالت میں چیلنج کر دیا گیا کہ یہ تشدد کو فروغ دیتی ہیں بالآخر 1993 میں سپریم کورٹ نے یونین پر پابندی عائد کر دی۔

جامعہ کراچی کے طلبہتصویر کے کاپی رائٹUNKNOWN
Image captionجامعہ کراچی کے طلبہ

جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد جب 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پہلے خطاب میں طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

عوامی نیشنل پارٹی پی پی حکومت کی اتحادی جماعت تھی۔ افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ جب مارشل لا ختم ہوتے ہیں تو بہت سارا ملبہ چھوڑ جاتے ہیں اور بہت ساری رکاوٹیں افسر شاہی کے پاس ہوتی ہیں جو دور سے نظر نہیں آتیں۔ ‘ہمارے یہاں ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ عبوری دور اپنے منطقی انجام پر پہنچا ہو جس کی وجہ سے جمہوری اداروں کی بحالی ایک بار بھی نہیں ہو سکی۔’

جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کا دعویٰ ہے کہ جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں طلبہ تنظیموں پر پابندی جماعت اسلامی کو کنارے لگانے کی لیے لگائی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ تنظیمیں ایک بہت بڑا موقع ہوتا تھا کہ اساتذہ اور طلبہ کو ایک دوسرے کے طریقہ کار کو دیکھیں۔ اس طرح طلبہ کو مالیات اور عوامی رابطہ کا موقعہ مل جاتا تھا۔

‘جنرل ضیاالحق کے بعد جب بےنظیر بھٹو آئیں تو انھوں نے اعلان کیا کہ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں الیکشن ہوں گے، یہ الیکشن ہوئے کوئی ناخوشگوار واقعہ بھی پیش نہیں آیا اس کے باوجود انھوں نے ملک کے اندر دیگر جامعات میں الیکشن نہیں کروائے۔’

سندھ یونیورسٹی

منور حسن کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کو یہ سوٹ کرتا ہے کہ آزادی کم سے کم میسر ہو اور لوگ حقوق کے نام پر سڑکوں پر نہ آ سکیں، لہٰذا اس طرح سے چیزیں کی جائیں کہ دستور سے شروع ہوں اور دستور پر ختم ہوں۔

پاکستان میں جامعات میں طلبہ تنظیموں پر پابندی کی ایک وجہ طلبہ گروہوں میں تصادم کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔

بےنظیر بھٹو شہید میڈیکل یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر اختر بلوچ کا کہنا ہے کہ جب ہم یونین کی بات کرتے ہیں تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ طالب علم اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن بدقسمتی سے ان میں باہر کی قوتوں کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے اور وہ پورے ماحول کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہیں اس کی وجہ سے انتظامیہ بلیک میل ہو جاتی ہے۔

کراچی اور لاہور کی جامعات میں طلبہ تنظیموں میں تصادم کی ایک بڑی وجہ جماعت اسلامی کی طلبہ تنطیم جمعیت کو قرار دیا جاتا ہے۔

منور حسن کا کہنا ہے کہ تشدد کی بنیاد جس نے بھی رکھی ہو اس کے لیے ہمدری پیدا نہیں ہو گی۔ ‘جمیعت سب سے زیادہ یونین کے انتخابات جیتنے والی جماعت ہے۔ اگر تشدد کی بنیاد ایسے لوگ رکھتے تو وہ ناپید ہو جاتے اور لوگ انھیں ووٹ نہ دیتے۔ موجودہ وقت میں تو کوئی یونین نہیں ہے لیکن اس عرصے میں تعلیمی اداروں کا کیا حال ہوا ہے، کہ بالآخر رینجرز کو لگانا پڑا ہے؟‘

پنجاب یونیورسٹیتصویر کے کاپی رائٹUNKNOWN
Image captionلاہور میں واقع پنجاب یونیورسٹی

پاکستان میں گذشتہ چند برسوں میں صفورہ واقعے کے ملزم سعد عزیز اور لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ نورین لغاری سمیت درجن کے قریب اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ اور طالبات شدت پسندی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ جس کے بعد انسداد دہشت گردی کے ادارے جامعات سے شدت پسندی کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے سربراہ عامر رانا کا کہنا ہے کہ انتہاپسندی کے رحجانات کی روک تھام کے لیے طلبہ تنظیمیں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جتنی بھی تشدد پسند اور دہشت گرد تنظیمیں ہیں وہ ایک متبادل سیاسی نقطہ نظر پیش کرتی ہیں۔ جب مرکزی دھارے کے نقطۂ نظر کو جامعات میں کام کرنے کے لیے اجازت نہیں دیں گے تو وہ خلا اس قسم کی پرتشدد تنظیمیں ہی پورا کریں گی۔

‘یہ کہا جاتا ہے کہ طلبہ تنظیمیں آنے سے تشدد بڑھ جائے گا، میرا خیال ہے کہ حکومت کو چیکس لگانا چاہیے تاکہ اسلحے کا فروغ نہ ہوا اور طلبہ یونین سیاسی جماعتیں انھیں آلہ کار نہ بنائیں۔ یہ ایک انتظامی مسئلہ ہے جس کو حل کیا جا سکتا ہے اس بنیاد پر اس سیاسی عمل کو روکنا کسی صورت میں دانش مندی نہیں۔’

بےنظیر بھٹو شہید میڈیکل یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر اختر بلوچ کا کہنا ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں مذہب کو سامنے لاتے رہے اور مجموعی طور پر کلاشنکوف کلچر اور ملّا ازم آیا۔

‘ان سب چیزوں نے مل کر ہماری معاشرے میں شدت پسندی کو فروغ دیا۔ اب اس سارے بیانیے کو روکنا ہے اس میں ہم طلبہ یونین کی بحالی کی بھی بات کرتے ہیں۔’

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here