Home Education استاد ۔۔مینارۂ نور

استاد ۔۔مینارۂ نور

72
0
SHARE

یوں تو دنیا کا کوئی مقام ایسا نہیں جہاں استاد, ٹیچر یا معلم کی اہمیت اجاگر نہ ہو اور عزت نہ کی جاتی ہو، انسانی زندگی میں ہر دن کی اہمیت ہے لیکن معاشرہ میں سال کے جن ایام کو خصوصی درجہ دیا گیا ہے ان میں ایک “یوم اساتذہ’’ (Teacher’s Day) ہے جو 5 اکتوبر کو ہر سال ملک میں منایا جاتا ہے اور اس موقع پر اسکول و کالجزمیں مختلف پروگرام ترتیب دئیے جاتے ہیں ، جلسوں کے ذریعہ استاد کی اہمیت اور عزت کو پروان چڑھانے کی باتیں ہوتی ہیں، معلم کے احترام کا درس دیا جاتا ہے۔ انسانی شعور کی اعلیٰ سطح اور اس کے ذہنی سفر کی اعلیٰ منزل یہ ہے کہ انسان کو کائنات کی کتاب فطرت کے اوراق سے اہم سبق اور حقیقت کا ادراک حاصل کرنا ہو۔اور وہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کائنات کے خالق و مالک کی معرفت حاصل کرنا اور اس کے حقوق کو جاننا ہے۔یہ اس وقت ممکن ہے جبکہ انسان کو سوجھ بوجھ حاصل ہو۔اس مقصد کے لیے انسان جو کوشش کرتا ہے وہ تعلیم ہے۔یہ تعلیم روحانی،ذہنی اور جسمانی مادی،فنی ہر طرح کی ہوسکتی ہے جس کا حصول ایک بندہ مومن کو سب سے زیادہ حق ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ علم و حکمت مومن کی متاع گم شدہ ہے، جہاں اسے پائے اس کا سب سے بڑا حق بندہ مومن کو حاصل ہے۔
آگہی و معرفت سے ہی انسان اشرف المخلوقات کے لقب سے ملقب ہے۔ معاشرتی زندگی میں سب سے زیادہ توجہ اسی پہلو پر دی جاتی ہے کیونکہ علم انسان کی زندگی کے جملہ شعبہ جات کا احاطہ کرکے اسے ایک قابل قدر عنصر بنانے میں اس کا اہم معاون و مددگار ہے۔لیکن اس مقام کا حصول ایک فرد کے لیے بغیر استاد کے ممکن نہیں۔
شاگرد اور استاد کا رشتہ دنیا کے تمام رشتوں میں قدیم ترین ہے تعلیم و تعلم کا سلسلہ بہت پرانا مانا جاتا ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب رب کائنات نے آدم کو پیدا فرمایا اسے علم اشیاء کی تعلیم دی”وعلم ادم الاسماء کلھا”۔ گویاکہ یہ عظیم کام اور مقام بلد والا فریضہ پہلے خود خالق کائنات نے انجام دیا ہے۔دنیا نے چاہیے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کا احساس کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن اسلام نے بہت پہلے ہی اسکی عظمت کو اجاگر کیا ہے۔اسکے مقام بلند سے انسان کو آشنا کیا ہے۔اور خود رسول ﷺنے اساتذہ کو یہ کہہ کر شرف بخشا ہے کہ” انما بعثت معلمًا ”کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔
تعلیم و تعلم کو اسلام میں ایک عظیم ذمہ داری کے طور پر پیش کیا گیاہے،اور جو افراد اس پیشہ سے متعلق ہیں اور قوم کو زیور علم سے آراستہ کرتے ہیں انہیں بہت ہی معظم ومکرم قرار دیا ہے۔ حضرت علی کا قول ہے، “میں اس شخص کا غلام ہوں جو مجھے ایک حرف بھی سکھادے، اگر وہ چاہے تو مجھے بیچ دے، اگر چاہے تو آزاد کر دے۔”
انسانی معاشرے کا کوئی ایسا شعبہ، کسب و پیشہ اور فن نہیں جہاں استاد کی ضرورت نہ ہو۔بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے والدین اس کے پہلے معلم اور ماں کی گود پہلا مدرسہ ہے جو اسے چلنا، بولنا، کھانا، اٹھنا،بیٹھنا وغیرہ سکھاتے ہیں۔ ڈاکٹر، انجینر، آفیسر،پروفیسر،ماسٹر،منیجر،سی ایم۔پی ایم۔مولوی، عالم،مفتی، قاضی یا دوسرے پیشہ ور اور فنکار، ایک استاد کی محنت شاقہ کے طفیل ہی ان مقام تک پہنچ پاتے ہیں۔استاد معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار نبھاتا ہے۔استاد معاشرے کا وہ حصہ ہے جہاں اخلاقی اقدار کو بام عروج حاصل ہوتا ہے، جہاں اقوام و ملت کے مستقبل کی بنیاد تعمیر کی جاتی یے۔بقول علامہ اقبال، “استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں، کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہیں کے سپرد ہے،،
تاریخی حقائق گواہ ہے کہ نئی نسل کی تعمیر و ترقی دنیائے انسانیت کی نشو ونما، معاشرے کی تعمیر وتشکیل اور فرد بشر کی فلاح و بہبود میں ایک کامیاب معلم اور باکمال استاد کا جتنا بڑا مقام ہوتا ہے شاید کہ کوئی اور اس درجہ کو پاسکے۔یہی وجہ ہے کہ آپﷺ کوبھی معلم انسانیت اور استاد کل سے پکارا گیا۔کیونکہ استاد حقیقی باپ سے زیادہ درجے کا حامل اور عزت و شرف میں اللہ کے سوا سبھوں میں ممتاز ہے۔جنہیں قوم کا حقیقی رہنما اور نسل انسانی کا کامل پیشوا مانا جاتا ہے۔اور جس سے علم کا دریا بہتا ہے۔ عمدہ اخلاقی فضا ہموار ہوتی ہے۔امن و امان کا سایہ فگن ہوتا ہے۔حقیقی زندگی کی تازگی اور کامیاب منزل کی نورانی نظر آتی ہے۔ اگر مختصرا کہا جائے کہ استاد زندگی کے رخ کو متعین کرتا ہے تو مبالغہ آرائی نہ ہو گی۔
استاد کی اسی عظمت کی طرف نبی رحمت ﷺنے اشارہ فرمایاہے کہ یعنی جس سے تم سیکھو، علم حاصل کرو اس کے ساتھ خاکسارانہ برتاؤ اختیار کرو۔یہ استاد ہی ہے جو ایک فرد کی تربیت کرتا ہے۔اسکی ذہنی نشو ونما کا فریضہ انجام دیتا ہے۔اس عظیم فریضہ کی انجام دہی کے لیے ضروری ہے کہ ایک استاد کو معاشرے میں اس کا جائز مقام دیا جائے۔ان عظیم خدمات کے عوض ایک استاد کا حق بنتا ہے کی اسے سوسائٹی میں نہ صرف معاشی حقوق بلکہ ساتھ ہی اعلی مقام دیا جائے۔ اس سے بڑھ کر اس کے ادب و اکرام کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
لیکن آج معاشرے مین جس قدر حقوق اساتذہ کے تئیں بے اعتنائی برتی جاتی ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔طلبہ اور عوام کے دلوں میں حرمت اساتذہ بالکل ہی ناپید ہے۔یہ استاد ہی ہے جو محنت ومشقت، الفت و محبت، شفقت ولگن اور اپنا پسینہ نکال کر معاشرے کے چھوٹے بڑے عہدہ و منصب کے لیے افراد کار تیار کرتا ہے۔لیکن آج معاشرہ اسی استاد کی قدر کرنے سے قاصر ہے۔اس حالت ناگفتہ بہ کی ساری ذمہ داری ان افراد کے سر جاتی یے جن کے ہاتھوں میں نظام تعلیم و حکومت کی زمام کار ہے۔جو علم و ترقی کے بڑے نعرے لگائے پھرتے ہیں اور پرامن معاشرے کی تعمیر و ترقی کے خواب دیکھتے ہیں۔ جو یوم اساتذہ پر دھماکہ خیز تقریر کرتے ہیں۔کیا صرف عالمی سطح پر یوم اساتذہ مختص کرنے سے ہی اس حالت بد اور نقصان عظیم کی تلافی ممکن ہے؟جبکہ حقیقی دنیا میں اساتذہ کے حقوق کی پامالیاں ہو رہی ہو۔ اساتذہ اور طلبہ پر لاٹھیاں برسائی جارہی ہو، ٹیئر گیس اور رنگیلا پانی چھڑکا جارہا ہو، زد کوب کیا جارہا ہو۔جہاں تعلیم کو پیٹ کے ساتھ جوڑا جاتا ہو، جہاں کی تعلیم گاہیں سیاسی اکھاڑے اور تجارتی منڈیاں بن گئی ہوں، ایسے نظام میں بہتری کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی ہے جن کے منتظمین کے ہاتھ معصوم طلبہ کے خون سے رنگے ہوئے ہوں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسا نظام اور نصاب تعلیم تشکیل دیا جائے جس کی بنیاد خدا پرستی پر ہو، اخلاقیات پر ہو،انسانیت پر ہو نہ کہ خدا بیزاری اور مادہ پرستی پر۔خدا بیزاری اور مادہ پرستی پر تشکیل دیے گئے نظام و نصاب سے صرف انسان نما روبورٹ اور مشین توبن سکتے ہیں جو برق رفتاری سے اشاروں پر کام انجام دیتے ہوں گے، جو ہیرو شما اور ناگاساکی کو وجود میں لاسکتے ہیں، شام، عراق و افغان کو کھنڈرات میں تبدیل کر سکتے ہیں، لیکن ایسے باصلاحیت وصالحیت افراد نہیں بن سکتے جو انسانی درد و حس رکھتے ہوں، جو دوسروں کے حقوق سمجھ سکتے ہوں۔جو استاد کے مقام و ادب سے واقف ہوں۔ایسے حالات میں ہمارے اساتذہ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کی وہ اس پر فتن نظام تعلیم اور اس طوفان بدتمیزی میں بچوں کو انسانی فریضیکے طور پراخلاقیات کا سبق دیں ہمارے اساتذہ کو بقول سید ابوالاعلی مودودی ؒ کے گیتا سے قرآن پڑھانا ہوگا۔تب ہی کسی بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے۔اس حالت زار اور بے حسی کے پیش نظر مدارس اور دینی تنظیمیں مختلف النوع پروگرامات کا انعقاد کرتی ہیں۔ جیسے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے غالباَ دس سال پہلے احترام اساتذہ کی بحالی اور اہمیت کے لیے ایک ہفتہ تکریم اساتذہ پروگرام کا آگاز کیا تھااور آج تک چلتا آرہا ہے۔ ایسے اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے جیساکہ اس طلبہ تنظیم کی جانب سے اٹھایا جارہا ہے۔ اس اہم مہم میں ہر طالب علم اور استاد کو تعاون کرنا چاہیے۔ اس کار خیر میں شانہ بشانہ ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ واقعتاً ایسے اقدام ایک بہتر مستقبل کی نوید کے طور پر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اللہ ہمیں قوم کے معماروں کی قدر و خدمت کرنے کی توفیق دے۔ آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here