Home Education بجٹ میں تعلیم کا حصہ

بجٹ میں تعلیم کا حصہ

41
0
SHARE

جب ریاست تعلیم کے شعبے سے غفلت برتتی ہے تو اس سے پورا معاشرتی عمل متاثر ہوتا ہے۔ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ تعلیم جیسے اہم شعبے کو یہاں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ہر حکومت انتخابات میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کے دعوؤں کے ساتھ آتی ہے۔جب جون کے مہینے میں سالانہ بجٹ بنایا جاتا ہے تو انہیں وہ تمام وعدے بھول جاتے ہیں۔
ہماری بدقسمتی اور تعلیم کے شعبے سے عدم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہم تعلیم کے لیے سب سے کم بجٹ رکھتے ہیں۔ اس بجٹ سے صرف اساتذہ کی تنخواہیں ہی پوری ہو سکتی ہیں۔تعلیمی شعبے میں نئی پیش رفت کے لیے اس بجٹ میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ لوگ اب بجٹ کو لفظوں کا ہیر پھیر اور اعداد وشمارکی ایک بے رنگ سی کہانی سمجھنے لگے ہیں۔
پاکستان میں تعلیم کا شعبہ ایک ’خاموش بحران‘ کا شکار ہے۔ تعلیم کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی مذہب، معاشرہ یا ملک ہو، ہر کوئی تعلیم کی طرف زور دیتا ہے۔ اسلام نے بہت زیادہ تعلیم پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کی طرف پہلی وحی بھیجی تو وحی کا پہلا لفظ ہی “پڑھ’’ تھا۔ ہم اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسی کام کی شروعات صرف اور صرف تعلیم سے ہی ہو سکتی ہے اور کوئی کام تعلیم کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔
لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے چالیس فیصد بچے سکول کا منہ نہیں دیکھتے۔ اسکولوں کی بڑی تعداد گھوسٹ اسکول کی ہے۔ جو صرف کاغذ پر ہیں مگر اس کے اساتذہ کو تنخواہ برابر مل رہی ہے۔ روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق ملک کے لگ بھگ دو لاکھ بیس ہزار سکولوں میں سے میں ایسے کراماتی سکولوں کی تعداد تیس ہزار کے لگ بھگ ہے جنہوں نے سلیمانی ٹوپی اوڑھ رکھی ہے۔ بیس ہزار درختوں کے نیچے قائم ہیں۔ چالیس فیصد میں پانی نہیں اور ساٹھ فیصد میں بجلی نہیں۔ قیام پاکستان سے آج تک اس ملک میں چودہ سے زائد تعلیمی پالیساں نافد ہوچکی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ جنوبی ایشیا کا سب سے ناخواندہ ملک ہے۔
پاکستان جنوبی ایشیا میں تعلیم پر سب سے کم خرچ کرنے والا ملک مشہور ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ جنوبی ایشیا میں تعلیم پر سب سے کم سرمایہ خرچ کرنے والا ملک ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاع اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ مسئلہ صرف بجٹ کا نہیں ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ جو پیسہ مختص کیا جاتا ہے، اس کا ایک بڑا حصہ تنخواہوں میں چلا جاتا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں تر قیاتی اخراجات بہت اہم ہیں لیکن اس کے لیے خاطر خواہ پیسہ نہیں۔
حکومتی دعوؤں کے باوجود پاکستان میں تعلیم کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم الف اعلان کے تجزیاتی ڈیٹا کے مطابق ملک بھر میں دو کروڑ بچے چھبیس لاکھ ا سکول جانے سے قاصر ہیں۔ یہ پاکستا ن میں بچوں کی آبادی کا تقریباََنصف حصہ ہے۔ باقی جو بچے اسکول جاتے ہیں ان کو فراہم کی جانے والی تعلیم بھی کچھ زیادہ معیاری نہیں۔ الف اعلان کی تجزیاتی روپورٹ کے مطابق 48 فیصد اسکولوں کی عمارتیں خطرناک اور خستہ حال ہیں جن کو فرنیچر، ٹوائلٹس، چار دیواری، پینے کے صاف پانی اور بجلی کی کمی کا سامنا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اٹھارہ فیصد اساتذہ عموماََ اسکول سے غیر حاضر رہتے ہیں۔ یوں تو ہر سال حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ تعلیمی شعبے کی اہمیت دیتی ہے اور تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرتی ہے لیکن ہمیشہ زیادہ تر یہ اعداد وشمار کا کھیل ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان میں موجودہ نواز حکومت میں تعلیمی بجٹ جی ڈی پی کا چار فیصد کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر گزشتہ چار سالوں سے اس وعدے کو پورا نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس صورت حال میں تعلیم کے لیے مختص کیے جانے ولا مجموعی ملکی پیداوار جی ڈی پی کا چار فیصد محض ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔
پنجاب کے بجٹ کے مطابق شعبہ تعلیم کیلئے 345 ارب روپے مختص کی گئی ہے جو رواں مالی سال سے 33 ارب روپے زائد ہے، اسکول ایجوکیشن کیلئے 53 ارب 36 کروڑ روپے، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کیلئے 230 ارب روپے، ضلعی سطح پر تعلیم کیلئے 169 ارب روپے مختص کیے گئے ہے۔
پنجاب کے صوبائی وزیر خزانہ کے مطابق ہائر ایجوکیشن کے شعبہ کیلئے 44 ارب 60 کروڑ روپے، اعلیٰ تعلیم کے شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 18 ارب روپے سے زائد فنڈز مہیا کئے جارہے ہیں، آئندہ مالی سال کے کل بجٹ کا 15.4 فیصد ہے، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیلئے 112 ارب روپے، ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز کیلئے 73 ارب 50 کروڑ روپے، اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کیلئے 120 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔
خیبرپختونخوا کی حکومت نے6کھرب تین ارب روپے کا پانچواں اور آئینی طور پر اپنا آخری بجٹ پیش کردیا ہے‘ بجٹ کو تین حصوں فلاحی، انتظامی اور ترقیاتی میں تقسیم کیا گیا۔جس کی بنا پر اسے متوازن بجٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔
بجٹ میں تعلیم کے لیے 127 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں ابتدائی وثانوی تعلیم کے لئے 16 ارب روپے 28 کروڑ مختص کئے گئے۔ 410 نئے پرائمری اسکول بھی تعمیرکئے جائیں گے۔ اعلی تعلیم پر6 ارب سے زائد خرچ ہونگے، جن میں 10کالجوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔
بجٹ سے کچھ دن پہلے وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ فخر سے دعویٰ کرتے ہیں کہ شعبہ تعلیم میں اصلاحات کے بھی دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس نے خیبرپختونخو امیں تعلیمی نظام کو مثبت تبدیلی کے ٹریک پر ڈال دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ سرکاری اداروں پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ 35 ہزار سے زائد طلبا و طالبات کے والدین اپنے بچوں کو پرائیوٹ تعلیمی اداروں سے سرکاری سکولوں میں منتقل کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت کی اصلاحات لوگوں کی ضروریات اور توقعات کے عین مطابق ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اْن کی حکومت کے ایجو کیشن سیکٹر پلان کے مکمل ہونے پر خیبرپختونخوا میں سرکاری سکول والدین کیلئے سب سے پہلا انتخاب ہوں گے۔
سندھ حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے وسائل کا سب سے زیادہ حصہ تعلیم کے شعبے کے لئے مختص کیا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران بغیر چھت کے اسکولوں کے لئے 150 اسکول کی عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ پرائمری اسکولوں کو مڈل اسکولوں کا درجہ دینے کے لئے 50عمارتیں شامل کی گئیں۔ پرائمری ، ایلیمنٹری ،سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکولوں کی 275عمارتوں کی تزئین وآرائش کی گئی۔ رواں مالی سال کے معاملے میں 18۔2017 کے لیے تعلیمی بجٹ 163 ارب 12 کروڑ سے بڑھا کر 202 ارب 20 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں کے لئے 5 ارب روپے کی گرانٹ مختص کی گئی ہے۔ سندھ بھرمیں 2100 اسکولوں میں تقریباً 5 لاکھ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں ، آیندہ سال بذریعہ فاؤنڈیشن نیٹ ورک تعداد کو 6 لاکھ 50 ہزار تک بڑھائیں گے۔
بلوچستان کے بجٹ میں تعلیم کیلئے باون ارب روپے مختص کیے گئے ہے۔جب کہ بجٹ کے مطابق صوبے کے بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے تقریباً 8000 نئی اسامیاں تخلیق کی جائیں گی اور بلوچستان میں تعلیم تک رسائی کا خصوصی پروگرام شروع کیاجائے گا جس کیلئے 20 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، مواصلات کے شعبے کی 300 سے زائد اسکیموں کیلئے بجٹ میں 7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مالی سال کے دوران صوبے کے کالجوں کو فرنیچر کی فراہمی کے لیے 100ملین روپے فراہم کیے گئے ہیں تاکہ ان کالجوں میں تعلیمی سرگرمیاں بخوبی انجام پا سکیں۔
راواں مالی سال کے دوران صوبے کے طلبا و طالبات کو تعلیمی اداروں تک آسان رسائی دینے کے لیے تقریباً 144ملین روپے کی رقم سے دْور دراز اضلاع کے کالجوں کے لیے تیرہ کوسٹرز اور چار بسیں خریدی گئی ہیں۔ اس مقصد کے لیے نئے مالی سال میں بھی 54ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی ترقیاتی بجٹ پیش کیا گیا حسب سابق اس بار بھی بجٹ میں تعلیم کے لیے کوئی خاطر خواہ رقم مختص نہیں کی گئی ، المیہ یہ ہے کہ بجٹ میں جو رقم مختص کی جاتی ہے وہ خرچ نہیں کیا جاتا جو کہ حکمرانوں کی نااہلی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ وہ کس طرح پھر تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرینگے۔اب چونکہ بجٹ پیش کیا گیا ہے تو مطالبہ یہ ہے کہ تعلیم کے بجٹ کو بہتر پلاننگ سے خر چ کیا جائے۔ یہی مطالبہ گزشتہ کئی سالوں سے عوام مسلسل کرتے رہے ہیں۔ گو کہ مطالبے پر صوبوں نے اپنے تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا ہے، تاہم ان فنڈز کا درست استعمال بھی ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ۰۰۰۰۰۰

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here