Home Education تعلیمی کرپشن کو بے نقاب کرنے کاموقع

تعلیمی کرپشن کو بے نقاب کرنے کاموقع

56
0
SHARE

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب اوصاف حکمرانی کے بارے میں پوچھا گیا توآپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تھاکہ تاجر کو حکمران مت بناؤ کیوں کہ وہ ہرمعاملے کو تجارت کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ عدالت عظمیٰ میں ایک سال سے چلنے والا پانامہ کیس آخرکار کئی مرحلوں سے گزر کر وزیراعظم کی نااہلی کے ساتھ اختتام کو پہنچا ، لوگوں نے خوشیاں بھی منائیں کہ منتخب وزیراعظم چور نکلا اور نااہل ہوگیا ،لیکن کسی نے مستقبل کے بارے میں نہیں سوچا کہ ان چوروں اور تاجروں سے اسلام آباد کے ایوانوں کو کس طرح سے بچایا جاسکے کیونکہ ایک وزیر اعظم کو ایک بار نااہل کرنے سے یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا اس کے لیے مستقل طور پر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔اس سے پہلے کہ کل کوئی اور وزیراعظم ناہل ہو ایک ایسا نظام ہونا چاہئیے جونااہل لوگوں کا ایوان وزیراعظم تک رسائی کا راستہ بند کرے، سب کے ساتھ یکساں احتساب کرے، تیرا چور مردہ باد اور میرا چورزندہ باد والا نظام ختم کرکے اداروں کو خود مختار بنایا جائے تاکہ بلاتفریق سب کا حساب ہوجائے ، کرپشن کے خلاف پوری قوم کو یک آواز ہونا چاہئیے ،یہاں مطالبہ یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں جاری کرپشن کی روک تھام کا یہ ایک وقت ہے ہر تعلیمی ادرے میں ہونے والی کرپشن کو بے نقاب کرنے کا اس سے بڑا موقع شائد نہ ملے۔
حقیقت تو یہی ہے کہ گزشتہ تیس سالوں سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سیاست کی نرسری، طلبہ یونین، پر پابندی لگائی گئی ہے جس کی وجہ سے نااہل اور بڑے بڑے تاجر سیاست میں سرمایہ کاری کرکے ایونوں میں موجود ہیں جس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ حکمران مزید مال بناکربیرون ملک منتقل کررہے ہیں اور عوام مزید پستی کا شکار ہورہی ہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ قومی سیاست میں آمر اور آمر کے ہر حکم سے نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے ، لیکن تیس سال گزرجانے کے باوجود جمہوریت سے آنے والے حکمران ایک آمر کی لگائی گئی پابندی کو ابھی تک ختم نہ کرسکے کیونکہ جب طلبہ یونین ہوگی تو پھر اقتدار کے ایوانوں میں سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے اور ملک کی صحیح بھاگ دوڑ چلانے والے لوگ سامنے آئیں گے۔
پاکستان دنیاکاواحد ملک ہے جس کی بنیاد ایک نظریہ پر رکھی گئی اور وقت کی طاقتوں سے اس نظریہ کو منوانے کیلئے مسلمانوں نے جو بے شمارقربانیاں دیں تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ سالہا سال کی جدوجہد کے بعد اللہ، رسولﷺ اور قرآن پر ایمان رکھنے والوں نے قائد اعظم کی قیادت میں پاکستان اس نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں جس کا طرز زندگی، ثقافت اور دین سب کچھ سب سے الگ ہے۔ اس قوم کا کسی بھی دوسری قوم میں یا قومیت میں ضم ہونا قطعی طور پر ناممکن ہے۔
آج اگست ۲۰۱۷ ہے اور آج سے ستر سال قبل ہمارے بزرگوں نے ایک جہد مسلسل کی بدولت اس سوچ اور نظریہ کے تحت پاکستان کو حاصل کیا تھا ، لیکن ستر سال گزر جانے کے باوجود ہم بزرگوں کا خواب پورا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ بقول قائد اعظم
ؒ ’’ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک قطعہ اراضی حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں‘‘
لیکن گزشتہ ستر سالوں میں ہم اس تجربہ گاہ میں اسلام کے کس اصول کو آزما سکے یقیناً مجھ سمیت سب کا جواب نفی میں ہوگا ۔
تلاشنا ہے اسی وطن کی اساس تھی لاالہ جس کی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here