Home Uncategorized ستر سال بعد بھی منتظر

ستر سال بعد بھی منتظر

65
0
SHARE

ستر سالہ پاکستان کے حوالے سے لکھنے کا خیال جب ذہن نشین ہوا تو میری سامنے اتفاقاََ نوے سالہ دادی اماں بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد سوالنامہ تیارکیا اور دادی اماں سے انٹرویو لینا شروع کیا ،دادی اماں نے مہلت لی کہ کچھ دیر صبر کرکے بتادوں گی ابھی میری طبیعت کچھ بہتر نہیں۔ اپنی مادری زبان پشتو میں تعمیل کرتے ہوئے ہاں کے ساتھ سر کے اشارے سے بھی تابعداری کی اور دادی اماں کے کمرے سے نکلا ہی تھا کہ پیچھے سے دوبارہ واپسی کا حکم ملا۔ میں یکدم مڑکر دادی کے پاس آیا۔ جی دادی جان۔؟؟
بیٹھ جانے کا حکم ملا کچھ دیر خاموشی کے بعد بمشکل لب کشائی شروع کی ، بیٹا آپ کئی ماہ بعد لاہور سے آتے ہیں تو اس لیے ابھی اس بیماری میں آپکی بات ٹالنے کی ہمت نہیں ، میری عمر ابھی نوے سال کے قریب ہے ۔مجھے وہ وقت اور تاریخ صحیح طور پر یاد تو نہیں لیکن کچھ باتیں اور کچھ یادیں اس وقت کی ابھی تک ضرور یاد ہیں ، میرے دادا بہت بہادر آدمی تھے جب انگریز یہاں حملہ آور ہوئے تو سامنے والی چوٹی، دادی ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بتارہی تھیں، یہاں اس کے ساتھ علاقے کے لوگوں نے جمع ہوکر پڑاؤ کیا تھا اس وقت فرنگیوں (برطانوی فوج)نے ایک گولہ پھینکا تھا جس سے دو بندے شہید ہوئے تھے ، اس کے بعد یہاں کے لوگ باقاعدہ پہرے دیتے تھے۔پھر پاکستان بننے تک یہاں کوئی بھی فوجی اس علاقے میں داخل ہونے کی ہمت نہ کرسکا، پاکستان بننے کے وقت میری عمر تقریباََ اٹھارہ سال تھی ہم دیہاتی لوگ ہیں اور آج کل لوگ کراچی ،دبئی ،سعودیہ اور ملائشیا سمیت دیگر ممالک میں مزدوری کے لیے جایا کرتے ہیں، لیکن اُس وقت یہاں کے لوگ کراچی کم ہی اور بمبئی (ممبئی) میں مزدوری کے لیے زیادہ جایا کرتے تھے جس گھر کا بھی کوئی بندہ بمبئی میں ہوتا تھا اس کی بڑی عزت ہوتی تھی میرے بھی نانا جان جن کا نام سید انعام تھا وہ بمبئی میں تھے ۔وہ سال دو سال بعد آتے جاتے تھے اور وہ بتا تے تھے کہ فلاں جگہ اتنے مسلمان جمع ہوئے تھے اور فلاں جگہ اتنے۔ جگہوں کا نام تو صحیح طور پر یاد نہیں البتہ قائداعظم ،محمدعلی جناح،علامہ اقبال،مولامحمدعلی جوہر سمیت کئی اہم مسلمان رہنماؤں کے نام ضرور یاد تھے۔ ہم سارے خاندان والے مل کر نانا جان سے یہ سارے باتیں بہت شوق سے سنتے تھے ، ناناجان راستے میں پیش آنے والے واقعات بھی بتاتے تھے ، کہ مسلمانوں پر یہ تشدد ہوا فلاں جگہ اتنے مسلمان شہید ہوئے لرزہ خیز کہانیاں سننے کے بعد ہم نانا جان کوروکنے کے کوشش کرتے تھے ہمارے روکنے سے وہ دو تین دن تو رک جاتے تھے لیکن پھر بتائے بغیرچُپکے سے چلے جاتے تھے ،لیکن یہ ساری روداد سُن کر ہمارے گاؤں کے لوگوں میں تحریک پاکستان میں حصہ لینے کا اشتیاق اور بڑھ جاتا تھا۔
پاکستان کی آزادی کاجب اعلان ہو ا تو ایک طرف خوشی تھی کہ اب بمبئی میں ہمارے رہنے والے سارے رشتے دار واپس یہاںآئیں گے اور ہم ایک ساتھ ہی رہیں گے لیکن دوسری طرف اخبارات اور ریڈیو سے یہ اطلاعات ملتی تھیں کہ حیدرآباد دکن سے ہجرت کرنے والے قافلے پر سکھوں اور ہندوؤں نے حملہ کرکے پورے قافلے کو شہید کیا ،احمدآباد سے روانہ ہونے والے قافلے کے ساتھ یہ ظلم ہوا، کہیں مسلمان عورتوں کی عصمتوں کے ساتھ کھیلا گیا ۔یہ سارے واقعات سنتے تھے تو ہمیں نانا، نانی جان ،ماموں اور ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کی فکر لاحق ہوتی تھی ،کہ وہ کس حال میں ہوں گے ہر صبح سے لیکر شام تک ہم انتظار میں ہوتے تھے کہ شائد وہ بھی ہجرت کرکے نکلے ہوں گے۔ میں اور میرے بھائی اور دیگر رشتے دار بچے روز روز گاؤ ں کے داخلی دروازے پر انتظار کرتے تھے ہر شام کو مایوس واپس لوٹتے تھے کوئی خبر بھی نہیں ملتی تھی،اور ابھی تک وہی انتظار ہے کہ کسی دن کوئی خبر ملے کہ میرے نانا اورنانی اور اُن کے بچے زندہ ہیں۔ اسی خبر کو سننے کے لیے میری اماں جان آج سے چالیس سال پہلے ترستی ہوئی دنیا سے رخصت ہوکر لحد میں چلی گئیں۔ لیکن مجھے ابھی تک اپنی ماموں کی بیٹی جو میری اچھی سہیلی بھی تھی اس کا انتظار ہے کہ صرف ایک بار اس سے مل سکوں،کوئی مجھے خبردیدے۔ ایک جذباتی واقعہ یاد آیا،میرے ایک اور ماموں کا بیٹا جو پاکستان بننے کے وقت پانچ سال کا تھا اس وقت لوگ پاکستان کے حوالے سے بہت جذباتی ہوا کرتے تھے اور اسی جذباتی وابستگی کی وجہ سے یہ ملک ملا ہے ،اس وقت ہر گلی کوچے میں آزادی کے نعرے بلند ہوتے تھے۔
’ ’بٹ کے رہے گا ہندوستان،‘‘
’’بن کے رہیگا پاکستان ‘‘
پاکستان زندہ باد اور پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اللہ کے نعرے لگتے تھے۔ ایک دن ماموں کا ننھا بیٹا نعرے لگاتے ہوئے راستے میں گرگیاتھا سر پر کافی چوٹ لگی ہوئی تھی زور سے روتے ہوئے گھر آیا تو مامی نے پٹی کرتے ہوئی کہا بیٹا بس بس ابھی ٹھیک ہوجائے گا اس نے امی سے کہا مجھے اس بات پر رونا نہیں آرہا کہ سر پر چوٹ لگی ہے اور خون بہہ رہا ہے امی نے پوچھا کہ پھر کیوں؟ اس کا جواب بہت جذباتی تھا امی جان مجھے رونا اس بات پر ہے کے ہمارے محلے کے ایک دوست کے ابو شہید ہوگئے ہیں اور ایک کے بھائی شہید ہوئے۔ ہمارے گھر سے اس مقدس تحریک میں کوئی شامل نہیں اور میرا یہ خون فضول بہہ گیا کاش میرا خون بھی اس مقدس تحریک بہتا ۔میرے اس ننھے کزن کی بات سے سب گھر والوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ بچہ زیادہ تر ادھر ہی رہتا تھا لیکن تقسیم سے کچھ ہی دن پہلے وہ بھی نانا ابو کے ساتھ بمبئی گیا تھا وہ بھی ابھی تک واپس نہیں ہوا،وہ پاکستان میں آزادی کا سانس نہ لے سکا کاش یہ ممکن ہوتا اگر وہ زندہ ہوگا تو اب پچھتر سال کا بڈھا ہوگا ،اور میرا پاکستان اب ستر سال کا ہے۔ہمارے دور کے بچے خون کا ایک ایک قطرہ اس پاک دھرتی پر قربان کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ اس وقت صرف پاکستان ہر ایک کے لیے جان سے بڑھ کر تھا ، بوڑھے ،بچے ، جوان اور عورتیں سب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق تحریک پاکستان کے لیے کوشش کرتے تھے ،مجھے مخاطب کرتے ہوئی دادی جان بولی بیٹا ابھی کے بارے میں جو سُنا ہے یہ اُس وقت بالکل نہیں تھا ابھی تو پاکستان کہیں نظر نہیں آرہا ،کوئی پنجابی ،کوئی پٹھان تو کوئی بلوچی،سندھی ،سرائیکی،ہزاروی اور مہاجر ہیں۔ پاکستانیت بالکل نہیں ہے ۔اس وطن کے لیے جو اس وقت بزرگوں کی قربانیاں ہیں وہ آج کے دور میں بالکل بُھلا دی گئی ہیں، میرے بیٹے یہاں اس دھرتی پر ستر سال بعد مجھے پاکستان کی تلاش کیوں ہے؟؟؟ یہی سوال جو میرے لیے اب بھی بہت اذیت بناہوا ہے ، میں اکثر دیکھتی ہوں کہ بلکہ روزانہ سُننے کوملتا ہے فلاں جگہ اتنے لوگ مرے ہیں اور فلاں جگہ اتنے۔۔ تو مجھے یوں محسوس ہورہا ہے کہ ہم اپنے آباواجدا کی کئی سالوں کی محنت کو یوں ہی اپنے ہاتھوں سے کھورہے ہیں۔
آخر میں بس اتنا ہی کہ
تلاشنا ہے اسی وطن کی
اساس تھی لاالہ جس کی
حصول جس کا تھا دیں کی خاطر
تھی انتہا لاالہ جس کی
وہ جس کی خاطر ضعیف ماؤوں نے
اپنے بیٹے فدا کیے تھے !
اس وقت جو نعرے ہمارے بزرگ اورہم جب لگاتے تھے کہ
’’پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اللہ ‘‘مجھے بس اس نعرے کے عملاََ نفاذ کا سترسال سے انتظار تھا ہے اور ابھی بھی ہے لیکن عمر کا تقاضا ہے کہ شائد وہ عملاََ نفاذ میں نہ دیکھ سکوں لیکن اُمید ہے آپ لوگ ضرور دیکھ سکو گے جو ہمارے بزرگوں کی روحوں کے لیے باعث سکون ہوگا ۔انشاء اللہ۔
*****

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here